نئی دہلی:31/ جنوری (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) آئی سی آئی سی آئی کے سابق سی ای او اور منیجرنگ ڈائریکٹر چندا کوچر کے خلاف الزامات کی تحقیقات کر رہی جسٹس بی این شری کرشناکمیٹی کی رپورٹ آئی ہے۔کمیٹی نے تحقیقات میں پایا کہ کوچر نے ویڈیوکون کو قرضہ دینے کے معاملے میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔کوچر کی منظوری پر اس قرض کا کچھ حصہ اس کے شوہر دیپک کی ملکیت والی کمپنی کو دیا گیا تھا۔انکوائری کی رپورٹ کے بعد بینک بورڈ کے ڈائریکٹر نے آئی سی آئی سی آئی سے کوچر کی علیحدگی پر غور کیا ہے، جو بینک کی پالیسیوں کا حصہ ہے۔اس کارروائی کے تحت کوچر کے تمام موجودہ اور مستقبل کی ادائیگیوں کو ادائیگی، بونس، انکریمنٹ اور اسٹاک کی رقم سے انکار کردیاگیا۔بینک کے فیصلے کے بعد چندا کوچر نے اپنا بیان جاری کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں بہت مایوس ہوں اور فیصلہ سے حیران ہوں،مجھے اس رپورٹ کی کوئی بھی نقل نہیں ملی ہے، میں دہرانا چاہتی ہوں کہ قرض دینے کا کوئی فیصلہ ایک طرفہ نہیں ہے۔آئی سی آئی سی آئی ایک مضبوط ادارہ ہے جس میں مضبوط طریقہ کار اور نظام موجود ہیں۔اس میں اجتماعی فیصلے کئے جاتے ہیں اور بہت سے اعلیٰ صلاحیت پیشہ ور افراد فیصلہ کرنے میں شامل ہیں،لہذا اس کی ساخت اور بناوٹ ایسی ہے کہ اس میں تنازعات کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔چندا کوچر نے مزید کہاکہ میں نے پچھلے 34سالوں میں آئی سی آئی سی آئی کی ایمانداری اوردلجمعی کے ساتھ خدمت کی ہے، اگر ضرورت ہو تو تنظیم کے مفاد میں اگر ضرورت پڑی تو مشکل فیصلے کرنے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹی،بینک کا یہ فیصلہ بہت غمناک ہے،میں اپنے پیشہ ایماندارانہ اور وقار کے ساتھ شروع کیا،میں اپنے پیشہ میں مکمل اعتماد رکھتی ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ایک دن سچ کی کامیابی ہوگی۔اس سے پہلے 24جنوری کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)نے ویڈیوکان گروپ اور آئی سی آئی سی آئی بینک سے منسلک 3250کروڑ روپے کے قرض کے معاملے میں چار کمپنیوں کے علاوہ، چندا کوچر، ان کے شوہر دیپک کوچر اور صنعت کار ویین دھٹ کے خلاف ایک شکایت درج کی۔